یہ بات نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرنے والے برطانوی ترجمان نے جمعرات کے روز ارنا نیوز ایجنسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
ارنا نیوز نے پوچھا کہ کیا امریکہ اور جرمنی کے تازہ ترین موقف کے پیش نظر ویانا مذاکرات کے حوالے سے لندن کا نقطہ نظر تبدیل ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نہیں، اس سلسلے میں برطانیہ کا موقف تبدیل نہیں ہوا ہے، ہمیں یقین ہے کہ مارچ سے ایک مستحکم معاہدہ میز پر ہے، جو ایران کو جوہری معاہدے کے تحت اپنے وعدوں پر مکمل طور پر دوبارہ عمل درآمد کرتا دیکھ سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ لندن اور اس کے شراکت دار 2015 میں طے پانے والے ایرانی جوہری معاہدے کے اگلے اقدامات کا جائزہ لیتے رہیں گے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ برطانیہ یورینیم کی افزودگی سمیت ایران کے رویے سے نمٹنے کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ تعاون کرے گا۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے @IRNA_Urdu

لندن، ارنا - برطانوی وزیر اعظم کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی اور جرمن دعووں کے باوجود برطانوی حکومت جوہری معاہدے پر عمل درآمد کے لیے مذاکرات پر توجہ مرکوز رکھتی ہے۔
متعلقہ خبریں
-
ایران مخالف قرارداد سیاسی مقاصد سے منظوری دی گئی ہے/ جرمنی کے پاس انسانی حقوق کا سیاہ کارنامہ ہے
تہران۔ ارنا- ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بڑی افسوس کی بات ہے کہ یہ قرارداد سیاسی…
-
مذاکرات میں ہمیں وعدہ خلافی کرنے والے لوگوں کا سامنا ہیں: رئیسی
تہران، ارنا – ایرانی صدر نے کہا ہے کہ ہمیں مذاکرات میں وعدہ خلافی کرنے والے لوگوں کا سامنا…
-
امریکہ مذکرات میں منافقانہ رویہ اپناتا ہے: امیرعبداللہیان
تہران۔ ارنا- ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ منافقانہ رویہ اپناتا ہے، امریکی فریق سے…
آپ کا تبصرہ